ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کشمیر کے حالات کو جارحیت نہیں بلکہ گفت و شنید سے قابومیں کیا جائے 

کشمیر کے حالات کو جارحیت نہیں بلکہ گفت و شنید سے قابومیں کیا جائے 

Sat, 27 Aug 2016 17:50:57    S.O. News Service

فرقہ پرستی کے خلاف جنگ نا گزیر،حکومت اوقاف کے تحفظ کو یقینی بنائے : سید ارشد مدنی 

نئی دہلی ، 27؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جمعیۃ علماء ہندکشمیر کے حالات پرریاستی اور مرکزی حکومت کی ناکامی پر اظہار افسوس کے ساتھ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی ، کشمیر میں روز افزوں بے قابو ہوتے حالات، اوقاف کی بد حالی اور سرکار ی اداروں کے ناجائز قبضوں، دہشت گردی ، مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں اور بے قصور مسلمانوں کے مقدمات کی تاخیر کے تعلق سے اپنی گہری تشویش کا اظہارکرتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے اختتام کے بعد ایک سوال کے جواب میں کہا ، مولانا مدنی نے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے دورہ کشمیر کے بارے میں کہا کہ اگر وہ مقامی رہنماؤں اور تمام سیاسی پارٹیوں کو اعتمادمیں لے کر اب سے پہلے دورہ کرلئے ہوتے تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے ۔ خداکرے ان کا یہ دورہ بارآور ہواور حالات سدھر جائیں،مولانا مدنی نے کہا کہ مجلس عاملہ نے مختلف مسائل پر غوروفکرکیا اور تجویزیں منظورکیں ، مسئلہ کشمیر کے تعلق سے تجویز میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں تقریبا ڈیڑھ ماہ سے صورت حال انتہائی تشویشناک ہے ، وادی میں احتجاج کر رہے نوجوانوں اور عوام کا غصہ دور کرنے اور حالات کومعمول پر لانے کے لئے ظلم و جارحیت نہیں بلکہ گفت و شنید کو ترجیح دی جائے ۔احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال انتہائی تشویشناک ہے ۔ مظاہرین پر اس طرح کے ہتھیار کا استعمال شرمناک اورانسانیت کے خلاف ہے ۔مظاہرین جن میں معصوم بچے ، خواتین اور بوڑھے بھی شامل ہیں ، ان کے خلاف پیلٹ کااستعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں مظاہرین اپنی آنکھوں کی روشنی گنوا چکے ہیں ۔بین الا قوامی برادری بھی یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہے کہ اپنے ہی ملک کے باشندوں کے ساتھ کیسا ظلم کیا جا رہا ہے ۔حکومت احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد سے کام لے رہی ہے۔ جب سے مظاہرین کے خلاف پیلٹ کا استعمال کیا گیا ہے تب سے حالات اور خراب ہو گئے ہیں اور لوگوں میں زبردست غصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو خوردنی اشیا، بچوں کو دودھ اور بیماروں کو دوائی تک نہیں مل پا رہی ہیں ۔ ریاستی اور مرکزی حکومت ابھی تک حالات پر قابو پانے میں ناکام ہے،حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سنگین مسئلہ کو ظلم اور سختی سے نہیں بلکہ بات چیت اور محبت سے حل کرنے کی کوشش کرے ۔ اس کے لئے کشمیر کے نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اقدامات کرے ، کشمیر کے ساتھ ساتھ کشمیریوں سے بھی پیار کرنے اور ان کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے ۔
مولانا مدنی نے ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرستی کا زہر ہندوستانی سماج میں روز افزوں بڑھتا ہی جا رہا ہے اور ہر سطح پر اس کا اثر موجود ہے ۔ مرکز میں نئی حکومت کے آنے کے بعد فرقہ پرست قوتوں کو زیادہ آزادی حاصل ہوئی ہے اور حکومت میں شامل لوگ ہی کبھی گؤکشی توکبھی لو جہاد اور کبھی تبدیلی مذہب کے نام پر نفرت کا بازار گرم کر رہے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے فرقہ پرستی کے خاتمہ کیلئے کوئی قدم اٹھانے کی زحمت نہیں کی گئی۔ جمعیۃ علما ہند کی قومی مجلس عاملہ اس کی سخت مذمت کرتی ہے اور ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لئے ’’قومی یکجہتی مہم‘‘ کو بطور تحریک پورے ملک میں چلائے جانے کا فیصلہ کرتی ہے ۔ اوقاف کے تحفظ کے تعلق سے منظور شدہ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ مرکز کی سابقہ کانگریس حکومت میں جو وقف ترمیمی بل پاس کیا گیا تھا اس کے بعد یہ امید بندھی تھی کہ اس نئے قانون سے اوقاف کا زیادہ بہتر ڈھنگ سے تحفظ کیا جا سکے گا لیکن افسوس کی بات ہے کہ وقف جائیدادوں کی آج بھی وہی حالت ہے۔ دہلی میں تو اور بھی برا حال ہے جہاں اوقاف کی قیمتی جگہوں پرڈی ڈی اے ناجائز طریقہ سے قابض ہوتی جا رہی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ایک طرف تو حکومت خود اوقاف کے تحفظ کے لئے قانون بناتی ہے اور دوسری جانب خود حکومت کے ادارے ہی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اوقاف پر جبراً قبضہ کئے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دہلی وقف بورڈ نے اوقاف کی جائیدادوں کو وا گذار کرانے کے لئے جو آواز بلند کی ہے جمعیۃعلماء ہند اس کی تائید کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ و ہ اوقاف کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات کرکے اوقاف کی جن جائیدادوں پر حکومت کے اپنے ہی ادارے قابض ہیں ان سے ان جگہوں کو وا گذار کرایا جائے ۔ 
صدرجمعیۃکی نگرانی میں ایک خصوصی نشست ہوئی جس میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کئے گئے بے قصور مسلم نوجوانوں کی قانونی امداد کے لئے جمعیۃ علما ہند کی قانونی سیل کی کارگذاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پرجمعیۃ علما مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ کے علاوہ لکھنو ، جے پور، دہلی اور دیگر ریاستوں میں مقدمہ لڑ رہے وکلاء نے شرکت کی اور مقدمات کی تفصیلات بیان کیں۔ میٹنگ میں لیگل سیل کی کارگذاریوں پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا گیا بلکہ ستائش کی گئی ۔اس کے علاوہ زیر سماعت مقدموں کی موجودہ پوزیشن سے بھی واقفیت حاصل کی گئی اور ان مقدموں کے جلد نپٹارے کی حکمت عملی طے کی گئی۔ دہشت گردی کے تعلق سے جمعیۃ نے اپنے پرانے موقف کا اعادہ کیا کہ ہم ہر طرح کی دہشت گردی کے خْلاف ہیں ، چاہے وہ کسی بھی مذہب کی ہو۔انہوں نے کہا کہ جو دہشت گرد ہے وہ سچا مسلمان نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلام امن و آشتی کا درس دیتا ہے اور امن و محبت سے جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے معنی یہ بھی نہیں ہے کہ دہشت گردی کے نام پر بے قصور نوجوانوں کو فرضی معاملات میں ملوث کیا جائے۔ مولانا مدنی نے اپنا یہ مطالبہ پھر دوہرایا کہ جو مسلم نوجوان دہشت گردی کے الزامات سے با عزت بری ہوئے ہیں حکومت کو انہیں نہ صرف معاوضہ ادا کرنا چاہئے بلکہ انہیں جھوٹے معاملوں میں پھنسانے والے قصوروارافسران کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے ۔ مجلس عاملہ میں مظفرنگر کے فسادمیں خانماں برباد ہونے والے مظلومین کی بازآبادکاری کا مسئلہ زیر غورآیا ، عاملہ نے ان کے لئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ، ۔ صدرمحترم جمعیۃعلماء ہند نے ارکان مجلس عاملہ کے مشورہ کے بعد مولانا عبدالعلیم فاروقی کو جمعیۃعلماء ہند کے موجودہ ٹرم کے لئے ناظم عمومی نامزدکیا ۔ 
اجلاس عاملہ کی کارروائی کا آغاز ناظم عمومی مولانا عبدالعلیم فاروقی کی تلاوت کلام پاک سے جبکہ صدرمحترم مولانا سید ارشدمدنی کی دعاء پر اختتام پزیر ہوئی ، شرکاء میں صدرمحترم اور ارکان گرامی میں مولانا حبیب الرحمن قاسمی ، مولاناعبدالعلیم فاروقی ، مولانا سید اسجد مدنی ، مولانا مستقیم احسن اعظمی ، مولانا عبدالرشید قاسمی ، مولانا عبدالہادی پرتاپگڑھی ، مولانا فضل الرحمن قاسمی ، مولانا ڈاکٹر رشید الوحیدی ، مولانا عبداللہ ناصرقاسمی ، حاجی حسن احمد قادری ، حاجی سلامت اللہ ، اور مدعوئین خصوصی میں قانونی امدادکمیٹی کے سکریٹری گلزاراحمد اعظمی ، مولانا محمد مسلم قاسمی ، مولانا محمد خالد قاسمی ، قاری شمس الدین قاسمی ، مولانا بدراحمدمجیبی ، مولانا محمد راشد قاسمی ، مفتی حبیب اللہ قاسمی ، مولانا شمیم احمد کے نام قابل ذکر ہیں۔ 


Share: